28 مارچ 2015 - 09:38
سید حسن نصر اللہ کا یمن کے حالات سے متعلق اہم خطاب

حزب اللہ کے سکریٹری جنرل سید حسن نصر اللہ نے جمعہ کی شام کو المنار ٹی وی چینل سے براہ راست خطاب کیا جس میں یمن پر سعودی عرب کی جارحیت سے متعلق اہم گفتگو کی۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ حزب اللہ کے سکریٹری جنرل سید حسن نصر اللہ نے جمعہ کی شام کو المنار ٹی وی چینل سے براہ راست خطاب کیا جس میں یمن پر سعودی عرب کی جارحیت سے متعلق اہم گفتگو کی۔ سید حسن نصر اللہ نے اپنی گفتگو میں کہا: گزشتہ کئی برسوں سے بعض عربی ممالک نے فلسطین کی آزادی اور اسرائیل کی فلسطین پر جارحیت کے مقابلے میں چپ سادھ رکھی تھی لیکن یمن پر حملے کے لیے فورا جوش میں آ گئے۔
انہوں نے کہا: سعودی عرب کا موقف ٹیونس کے انقلاب کے حوالے سے واضح ہے ریاض نے آخری حد تک کوشش کی کہ وہ زین العابدین بن علی کو ٹیونس کی ڈکٹیٹر شپ پر دوبارہ لوٹا دے۔
حزب اللہ کے سکریٹری جنرل نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ سعودی عرب کا یہ دعویٰ کہ یمن کے خلاف جنگ اس ملک کے مستعفیٰ صدر کے مطالبہ کی بنا پر کی گئی ہے ایک بہانہ اور بے بنیاد دعویٰ ہے کہا یہ بات کوئی دلیل نہیں بنتی کہ یمن کے حالات میں تبدیلی خلیجی ممالک منجملہ سعودی عرب کے لیے خطرہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا: اگر ایسا طوفانی حملہ جو اس وقت یمن پر ہوا ہے اسرائیل پر کیا جاتا تو ہم بھی اس میں شمولیت اختیار کرتے۔
سید حسن نصر اللہ نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ یمن میں جنگ کی وجہ اس ملک کی حکومت کا برکنار ہونا یا صدر کا مستعفیٰ ہونا نہیں ہے واضح کیا: کیا تمہارے پاس کوئی منطقی دلیل ہے جو تم مسلمانوں، علما اور اپنے مفتیوں کے لیے بیان کر سکو؟
انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ سعودی عرب کی گزشتہ ۳۰ سال کی خارجہ پالیسی کی کامیابیاں کہاں ہیں بیان کیا: سعودی عرب کی خارجہ پالیسی کی شکست نے علاقے میں ایران کے لیے دروازے کھول دئے اگر چہ ایران اس بات کا طالب نہیں تھا۔
سید حسن نصر اللہ نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ مشکل خود تمہاری طرف سے ہے نہ ایران کی طرف سے کہا: بنیادی مشکل خود سعودی عرب کے نظام میں پائی جاتی ہے اور وہ یہ کہ اس کا علاقے کے ممالک کے ساتھ کوئی تعامل نہیں ہے۔
حزب اللہ کے سربراہ نے کہا: سب سے بڑا جھوٹ تو تمہارا یہ ہے کہ ایران یمن کے حالات میں دخالت کر رہا ہے تمہارے پاس اس دعوے پر اگر کوئی دلیل ہے تو اسے پیش کرو۔
انہوں نے کہا: ہم امام خامنہ ای کو امام اور ولی امر مسلمین سمجھتے ہیں لیکن ایران نے کبھی بھی ہمیں کسی کام کے لیے کوئی دستور نہیں دیا نہ ہمیں کسی کام کے لیے مجبور کیا ہے لیکن ہم سعودی عرب کے کردار کو ان کے اتحادیوں کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔
سید حسن نصر اللہ نے کہا: سعودی عرب اور دیگر خلیجی فارس کے ممالک نے فلسطین کو اسرائیل غاصب کے مقابلے میں اکیلا چھوڑ دیا لیکن ایران نے تمام بیرونی پابندیوں کے باوجود فلسطین کا ساتھ دیا۔
انہوں نے مزید کہا: سعودی عرب نے امریکہ کے سابق صدر جارج ڈبلیو بوش کی عراق پر قبضہ کرنے کے لیے مدد کی اور یہ بھی ایسے حال میں ہوا کہ اس سے پہلے سعودی عرب نے صدام کو ایران کے خلاف جنگ کرنے پر اکسایا اور اس کی مدد کی۔

انہوں نے سعودی عرب کو مخاطب کر کے کہا: تم اور تمہارے اتحادیوں نے داعش جیسے دھشتگرد ٹولے کو بشار الاسد کی حکومت گرانے کے لیے جنم دیا اور سعودی شہزادے بندر بن سلطان نے بھرپور طریقے سے اس ٹولے کی حمایت کی۔  اب تم نے داعش کے مقابلے میں عراق کی مظلوم عوام کے لیے کیا کیا جبکہ ایران اس ستمدیدہ قوم کے شانہ بشانہ لڑ رہا ہے۔
انہوں نے واضح کیا: جب سعودی عرب کے وزیر خارجہ سعود الفیصل نے حماس کی ایک ٹیم سے ایران کے ساتھ تعلقات کے بارے میں سوال کیا تو اس نے کہا جو کچھ ایران ہمیں دے رہا ہے اگر تم دو گے تو ایران کے ساتھ ہم اپنا رابطہ ختم کر دیں گے۔
حزب اللہ کے سکریٹری جنرل نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ ’’ صرف یمن پر اپنی قدرت اور طاقت کے جوہر دیکھانے کے لیے اس ملک کی مظلوم عوام کی سرنوشت کے ساتھ کھلواڑ مت کرو‘‘ کہا: اب تک تم نے یمن کے خلاف چھے جنگوں میں حمایت کی اور ہر بار شکست کا منہ دیکھا۔
انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ’’ سعودی عرب نے اب تک کروڑوں ڈالر مجرموں کو خریدنے اور یمن کے خلاف استعمال کرنے میں خرچ کئے ہیں‘‘ سعودی عرب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: اب تم نے تمام یمنیوں کو ایران کی آغوش میں دے دیا ہے۔
انہوں نے تاکید کی: یمن پر سعودی جارحیت کا نتیجہ اس ملک کا یمن سے مکمل طور پر صفایا ہے۔
سید حسن نصر اللہ نے کہا: سعودی عرب اب یمن میں تکفیری ٹولیوں کی حمایت کرتے کرتے تھک چکا اور ناامید ہو کر آج خود حمہ کرنے پر اتر آیا جب اس نے یہ احساس کیا کہ یمنیوں نے اپنی قسمت کو اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے جسے ریاض تحمل نہیں کر سکتا۔
انہوں نے کہا: ہم یمن پر سعودی جارحیت کو روکنے کے خواہاں ہیں اور یمن کی مشکلات کو سیاسی گفتگو کے ذریعے حل کیے جانے کی خواہش کرتے ہیں۔
انہوں نے تاکید کی کہ ’’یمن کی عوام کا مسلم حق ہے کہ وہ اپنا دفاع کریں اور اپنی کامیابی تک اس جارحیت کا مقابلہ کریں‘‘ کہا: سعودی منصوبہ آخر کار شکست سے دوچار ہو گا اور ملت یمن کامیاب ہو کر رہے گی۔
سید حسن نصر اللہ نے کہا: تمہاری ہربار شکست اس بات کا موجب بن رہی ہے کہ علاقے کے ممالک ایران کی طرف رجحان پیدا کریں۔ جب غاصب صیہونی حکومت نے لبنان پر قبضہ کیا تو ایران نے اتنے دور سے لبنان کی مدد کی اور استقامت کے تجربات ہمارے اختیار میں دیے لیکن سعودی عرب نے پاس سے ہماری مدد نہیں کی۔
انہوں نے سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی دھشتگرد ٹولیوں کو حاصل حمایتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: شامی عوام سیاسی مذاکرات کے ذریعے اپنے ملک کے بحران کو ختم کرنے کے خواہاں ہیں اور وہ یقین رکھتے ہیں کہ یہ جنگ تباہی اور ویرانی کے علاوہ کچھ بھی نہیں دے سکتی۔
انہوں نے کہا: شامی بحران کے سیاسی حل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سعودی عرب ہے جو اس ملک میں آگ بھڑکانے کے لیے تیل چھڑک رہا ہے۔
حزب اللہ لبنان کے سکریٹری جنرل نے یمن پر سعودی امریکی جارحیت کو فوری روکے جانے کی تاکید کی اور یمنیوں کے ساتھ گفتگو کے ذریعے مسائل کو حل کرنے پر زور دیا اور کہا: یہ یمن کی مظلوم عوام کا حق ہے کہ وہ استقامت سے کام لے اور اپنا دفاع کرے اور کسی بھی طرح کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے۔
سید حسن نصر اللہ نے سعودی عرب کو مخاطب کر کے کہا: ایران اس وقت رضا شاہ کی بادشاہت نہیں ہے جو تہمارا دوست اور آقا تھا تمہاری ایران کے ساتھ مشکل یہ ہے کہ ایران، اسلامی جمہوریہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یمن پر جارحیت کا نتیجہ سعودی عرب سمیت تمام جارحین کی واضح شکست اور ملت یمن کی کامیابی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲